کمپنیاں بھی وہی کامیاب ہوتی ہیں جن کی مصنوعات لوگوں کی عادتیں بن کر ان کی ہڈیوں میں اترجاتی ہیں۔ 100 سال پہلے دنیا میں کسی نے دانتوں کو برش نہیں کیا تھا، آج میں اور آپ برش کئے بغیر سو جانے کا تصور بھی نہیں کرتے۔  محض اس لئے کہ ایک شخص نے اسے ہماری زندگی کا حصہ بنا دیا کیونکہ برش کرتے ہی منہ میں صفائی کا احساس مزے کی شکل اختیار کر لیتا ہے اس مقصد کیلئے ٹوتھ پیسٹ میں خاص اجزا ء ڈالے جاتے ہیں۔ صفائی کے اسی احساس کی وجہ سے خواہش پیدا ہوتی ہے اور رات سوتے وقت خود بخودبرش کرنے کے کئی اسباب کام کرنے لگتے ہیں، جیسے خاص وقت، باتھ روم، ٹوتھ پیسٹ، کسی کا یاد دلانا وغیرہ وغیرہ۔

عادتوں کی مدد سے افراد کے علاوہ کمپنیاں بھی اپنا ماحول اور کام کاج  بہتر بنا سکتی ہیں ۔ اس کیلئے کمپنیوں کو کسی خاص عادت کو رواج دینا پڑے گا جو کہ مزید اچھی عادتوں کی راہ  ہموار کر سکتی ہو۔ یہ سنہری عادت زنگ آلودہ تالے کھول دیتی ہے اور چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کا سیلاب آ جا تا ہے۔

یہ بڑی خاص کہانی ہے۔ زیادہ تر لوگوں کی طرح میں نے بھی لا شعوری طور پر بہت سی بری عادتوں کو جمع کر لیا تھا۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ ایسا ماحول اور روایات کی وجہ سے ہوتا ہے اس میں ہمارا قصور نہیں ہوتا۔ میری یہ عادتیں ورائٹی سے بھرپور تھیں ۔کچھ کا تعلق خیالات سے تھا اور کچھ کا جذبات سے، کچھ کا طرز زندگی سے اور کچھ کا تعلق اخلاقیات اور اصولوں سے۔ لیکن 37 سال پہلے قسمت کی دیوی مجھ پر مہربان ہو گئی۔ ایسا اتفاقاً ہو ا، یقین مانئیے میرے ارادے کا اس میں کوئی دخل نہیں تھا۔ میرا ایک دوست ہیروئن کا عادی ہو گیا اور مجھے بطور ڈاکٹر اس کی مدد کرنا پڑی۔  تب پاکستان میں منشیات سے بحالی کا کوئی بھی ماہر یا ادارہ موجود نہ تھا۔ یہ تھا میری زندگی میں ایک ٹرننگ پوائنٹ اور پھر کئی سال بعد امریکہ میں ٹریننگ سے بہت سی کامیابیوں کی راہ ہموار ہوئی، اب بھی میں ہر سال ٹریننگ کیلئے امریکہ جاتا ہوں۔

اس کیرئیر کے آغاز سے ہی میں نے محسوس کیا کہ منشیات سے بحالی کا کام بہت صبر آزما ہے۔ اس پیشے میں آنے کے بعد جلد ہی مجھے پتہ چل گیا کہ اس بیماری میں مبتلا مریضوں کیلئے کوئی عزت تھی نہ معالج  کیلئے کوئی آبرو۔ لہذا میں نے دو ٹارگٹ مقرر کئے۔ پہلا یہ کہ میں نے عادتوں کے پس پردہ رازوں سے پردہ اٹھانا ہے تاکہ نشے کے مریضوں کی بے بسی کو سمجھا جا سکے اور انہیں اس بیماری سے نجات دلائی جا سکے۔ دوئم یہ ہے کہ ایسی حکمت عملی وضع کی جائے جو بطور معالج مجھے بھی ایسی عزت دلائے جو دیگر معالجوں کے حصے میں آتی ہے۔ الحمدللہ میں نے دونوں اہداف حاصل کئے۔ اس کا اضافی انعام مجھے یہ ملا کہ میں نے اپنی ان گنت بری عادتوں کو سنوارا۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عادتیں بہت لچکدار ہوتی ہیں۔ عادتوں کے بارے میں زیادہ تر پیش رفت پچھلے 25 سال میں ہوئی اور اب عادتوں کو دماغ کی تہوں میں بنتے بگڑتے دیکھا جا رہا ہے۔ اگر ہم خواہش کے اجزاء اور مزے کو برقرار رکھتے ہوئے ناقابل قبول روئیے کو قابل قبول رویئے سے بدلنے کا اہتمام کر لیں تو کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ ایسا ہم زندگی میں کسی بھی مرحلے پر کر سکتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بڑھاپے میں ہم بدلنا ہی نہیں چاہتے ویسے بدلنے میں کوئی زیادہ مشکل پیش پھر نہیں آتی۔ دراصل عادتیں ہمارے ان فیصلوں پر مبنی ہوتی ہیں جو ہم کر کے بھول جاتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان پر دھول سی جم جاتی ہے۔ بعض اوقات نظر ثانی کی ضرورت بھی پڑتی ہے اور پھر ہم لٹھ لے کر اپنی عادتوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں حالانکہ یہ زور آزمائی کا نہیں بلکہ سوچ بچار کا کام ہے۔ یہاں ایک لوہار کی نہیں 100 سنار کی ترکیب کام کرتی ہے۔

بدقسمتی سے زیادہ تر لوگوں کیلئے عادتوں کو بدلنا وبال جان بن جاتا ہے؟ کیونکہ جب لوگ عادت بدلنے پر آتے ہیں تو صرف عادت کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے سیاق و سباق کو بھول جاتے ہیں اور ’’خواہش‘‘ اور ’’مزے‘‘ کے پہلو نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ لیکن ہم نے یہ سیکھا ہے کہ یہ دراصل خواہش کی یا د دہانی اور مزے کا چسکہ ہی ہیں جن کی ملی بھگت سے پرانا رویہ بار بار لڑھکتا ہوا سامنے آ جاتا ہے۔ عادتیں پکنے کے بعد دماغ کی اتھاہ گہرائیوں میں جا کر چھپ جاتی ہیں اور جس وقت وہ اپنا رنگ دکھاتی ہیں ہمیں یا تو پتا ہی نہیں چلتا یا پھر خفیف سا احساس ہوتا ہے۔ ایک مختصر وقفے کیلئے جیسے ہماری آنکھ لگ جاتی ہے یا پھر ہم سکتے میں آ جاتے ہیں اور ہم وہی کچھ کر بیٹھتے ہیں جو ہم نے نہ کرنے کا تہیہ کیا تھا تو باقی پھر احساس ندامت ہی رہ جاتا ہے۔

سائنسدانوں نے پتا چلایا ہے کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ اس چھان بین کا زیادہ تر سبب ان لوگوں کامشاہدہ تھا جو کہ دماغی بیماری یا چوٹ کی وجہ سے اپنی  یادداشت کھو بیٹھے تھے اور ہماری طرح سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے اور پھر بھی عادتیں سیکھنے پر قادر تھے۔  وہ نئے رویئے سیکھ  سکتے تھے۔ اس طرح پتا چلا کہ دماغ کا یہ حصہ جہاں عادتوں  کا ’’کاروبار‘‘ ہوتا ہے وہاں سوچ بچار کا کوئی خاص عمل دخل نہیں ہوتا، وہاں زیادہ تر کام کاج ایک سافٹ وئیر ہاؤس کے انداز میں ہوتا ہے۔

شاید عادتوں کو بدلنے میں مشکلات اس لیے ہوتی ہیں کہ ان کے مسکن تک رسائی ذرا مشکل سے ہوتی ہے۔ کسی روٹین یا خیال کے بارے میں ایک شعوری فیصلہ ہمارے دماغ کے ا س حصے میں ہوتا ہے جو کہ ذہانت کا مرکز ہے۔ بار بار یہی فیصلے کریں تو ہمارا دماغ اسے اپنے آئین کا حصہ بنا لیتا ہے۔ اگر کوئی فیصلہ ایک دفعہ آئینی ہو جائے تو تبدیلی کیلئے ’’دو تہائی‘‘ اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے اور یوں ایوان بالا اور ایوان زیریں کا آپس میں تال میل بھی ضروری ہے۔ اردگرد کے ماحول پر نظررکھنا لازم ہے کیونکہ خواہش کا بٹن یہیں سے آن ہو تا ہے۔ ہماری زندگی میں انواع و اقسام کے مزے موجود ہوں تو کوئی عادت بدلنا آسان ہو جا تا ہے۔ بدمزگی سے وِل پاور کمزور پڑ جاتی ہے۔  لوگ دھونس دھاندلی اور زور زبردستی پر اتر آتے ہیں سزا دینے پر تل جاتے ہیں۔ عادتیں مزے سے بدلی جاتی ہیں بدمزگی سے نہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ ہم تو اپنی بری عادتوں پر خود بھی کافی لعنت ملامت کرتے ہیں۔ کسی صدارتی حکم نامے سے عادت کو براہ راست بدلنے کی بجائے ہمیں خواہش کے پس پردہ عوامل اور علت پوری کرنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مزے پر فوکس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے رہ گئی بات روئیے کی تو اسے کسی دوسرے روئیے سے بدلا جا سکتا ہے کسی رویئے یا روٹین کو صفحہ ہستی سے نہیں مٹایا جا سکتا۔ کسی ناپسندیدہ رویئے کو کمزور اور نحیف و نزار بنایا جا سکتا ہے۔ جیسے نئی ریکارڈنگ سابقہ ریکارڈنگ کو چھپا دیتی ہے لیکن کسی ریکارڈنگ کو براہ راست نہیں مٹایا جا سکتا۔ حتیٰ کہ کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک پر کوئی بھی یادداشت کمزور کی جا سکتی ہے صفحہ ہستی سے مٹائی نہیں جا سکتی۔ اور اگر کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک میں پس پردہ یادداشت کو بحال کرنا مقصود ہو تو ایسا آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ عادتوں کا بھی یہی معاملہ ہے۔ عادت مدھم بھی ہو جائے تو موقع ملتے ہی سر اٹھا لیتی ہیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کتنی بری ہوتی ہیں یہ عادتیں؟ نہیں! ہر گز نہیں! عادتیں بری نہیں فائدہ مند ہوتی ہیں۔ علتیں بری ہوتی ہیں۔ عادت اور علت میں بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ عادت نتیجے کے اعتبار سے اچھی ہوتی ہے اور علت بری۔ عادتیں نہ ہوتیں تو ہم کھپ جاتے، چھوٹی چھوٹی چیزوں پر روزانہ مغز ماری کرتے۔  تاہم سوچے سمجھے بغیر سیکھی ہوئی عادتیں بعض اوقات اندرونی یا بیرونی حالات بدلے جانے سے وبال جان بھی بن جاتی ہیں اور پھر ہم انہیں علتیں کہتے ہیں۔ جب عادتیں بیمار پڑ جاتی ہیں اور پھر ہم مصیبت میں پھنس جاتے ہیں۔

  • 1
  • 2
  • اگلا صفحہ:
  • 3
  • 4

Please write your comments here:-

Comments