اچھی عادتیں ہمارے ماسٹر مائینڈ کو آرام کا موقع دیتی ہیں اور کام کو بوجھل نہیں بننے دیتیں کیونکہ ہمارے دماغ کا ماتحت حصہ روبوٹ کی طرح معاملات چلاتا رہتا ہے۔  جیسا کہ میں نے پہلے کہا عادتیں لچکدار ہوتی ہیں اور اگر ہم ان پر کا م کریں تو ہمیں نتائج ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔ علتوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بجائے اسے کسی عادت سے بدلا جاسکتا ہے،  مثال کے طور پر ہم وزن کم کرنا چاہتے ہیں اور ہاتھ نہیں رکتا، کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں تو ہمیں اس مزے کو جو کھانے سے ملتا ہے کسی اور مزے سے بدلنا پڑے گا اور کئی دفعہ تو کھانا بنیادی مقصد ہوتا ہی نہیں بلکہ بنیادی مقصد کچھ اورہی ہوتا ہے ۔

کیا لوگ ہوٹلوں میں صرف کھانے کیلئے جاتے ہیں؟ ہرگز نہیں، بلکہ آپس میں میل ملاپ اور ماحول بدلنے کیلئے جاتے ہیں اور کھانا بھی اس کا حصہ ہوتا ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف کھانے کیلئے جاتے ہیں۔ شام ہوتی ہے اور دوستوں کے ساتھ ڈنر کا پروگرام بناتے ہیں۔ اصل میں وہ آپس کی گپ شپ، خوبصورت ماحول اور اہمیت کی خواہش پوری کرنے جاتے ہیں۔ کھانا اس میں خاص اہمیت نہیں رکھتا زیادہ تر لطف دوسری چیزوں سے آتا ہے۔ اگر وہ کھانے کو کسی دوسری سرگرمی سے بدل دیں اور باقی سب کچھ ویسے ہی رہنے دیں تو فالتو کھانے پینے سے بچ جائیں گے۔

اگر کوئی عادت ڈالنا مقصود ہو تو کچھ پلاننگ کرنا ہو گی۔ وقت کوئی طے شدہ نہیں، اگر کوئی روٹین، رویہ یا فعل ایسا ہو جس کے فوراً بعد مزہ، فائدہ یا خوشگوار احساس ملے تو عادت بہت جلد پک جاتی ہے، جیسے سگریٹ، شراب اور چاکلیٹ وغیرہ۔ اور کچھ عادتیں ذرا دیر سے پکتی ہیں کیونکہ ان کا کوئی فوری انعام نہیں ہوتا، جیسے پڑھائی۔ کچھ عادتیں تو اور بھی مشکل سے پکتی ہیں جیسے کہ ورزش وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ ان عادتوں کو اپنا نہیں پاتے اور ’’مایوس‘‘ ہوکر ادھورا چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ ان کے بارے میں بے بسی ہرگز نہیں! جیسے ایجادات کی مدد سے زندگی بدل جاتی ہے ایسے ہی آج عادتوں کے حوالے سے حالیہ انکشافات کی وجہ سے ان عادتوں کو پکایا جا سکتا ہے جن کا انعام یا ریوارڈ بہت دیر سے ملتا ہے اور ابتداء میں بوریت یا تکلیف ہوتی ہے۔ مثلاً ورزش کی عادت کیلئے ورزش کے اختتام پر کوئی مزیدار مشروب جیسے کہ سردائی پینے سے دماغ سمجھتا ہے  کہ یہ مزہ ورزش سے آیا ہے اور اس طرح عادت پختہ ہونے لگتی ہے۔ پہلوانوں کو ہمیشہ سے اس طرح کسرت کرتے رہنے کی عادت ڈالی جاتی ہے۔کھلاڑی بھی یہی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ جن کاموں کے کرنے سے مزہ نہیں آتا لیکن مفید ہوتے ہیں، ان کاموں کے آخر میں مزے کی پیوند کاری کی جانا ضروری ہے یہاں تک کہ ان کے فوائد ظاہر ہونے شروع ہو جائیں، پھر آپ پیوند کاری چھوڑ سکتے ہیں کیونکہ پھر ضرورت باقی نہیں رہتی۔ بچوں کو تعلیم کی عادت ڈالنے کیلئے بھی یہ طریقہ کارآمد ہو سکتا ہے۔ بچے خود یا ان کے ماں باپ بچے کو پڑھنے کے فوراً بعد شاباش اور مٹھائی وغیرہ دے سکتے ہیں منہ چوم سکتے ہیں اور گلے لگا سکتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اگر آپ اس قسم کا ’’انعام‘‘ ہٹا بھی دیں تو اب ورزش یا پڑھائی اپنا انعام خود بن چکی ہوتی ہے ۔ انعام یا مزہ ضروری ہے چاہے اندر سے ملے چاہے باہر سے۔ جب تک کوئی روٹین مزہ نہیں دیتی دماغ اسے مستقبل میں باقاعدہ استعمال کیلئے منتخب ہی نہیں کرتا۔ دماغ کی یہ احتیاط بھی ضروری ہے اگر ایسا نہ ہو تو ہم فضول اور بے مزہ عادتیں اکٹھی کر لیتے۔ جب ہم کوئی ورزش جیسی اچھی عادت اپنا رہے ہوں تو تھوڑی سی کامیابی پر ہی انعام ضروری ہے۔ مثلاً اگر آپ پہلے جوگر پہن کر گھر پر ہی چکر لگا لیں تو بھی اپنے آپ کو انعام دیں، دماغ کیلئے کامیابی کبھی چھوٹی نہیں ہوتی، یا تو یہ ہوتی ہے یا پھر نہیں ہوتی۔ کامیابی کو چھوٹا یا بڑا ہم قرار دیتے ہیں۔ ایک دفعہ عادت پڑ جائے تو بڑی کامیابیاں ہماری راہ تک رہی ہوتی ہیں لیکن یاد دہانی بھی عادت پکانے میں اہم مقام رکھتی ہے۔ سگریٹ پینے والا دور سے ہی بو سونگھ لیتا ہے۔ لوگوں کو شہرکے ریستوران ازبر ہوتے ہیں۔ سب پتا ہو تا ہے کہ کونسی مزیدار چیز کہاں سے ملتی ہے؟

کھانے پینے کے ساتھ میری بیمار محبت بھی سر چڑھ کر بولتی تھی، کچھ اور بیمار محبتوں سے بھی چھٹکارا پایا، منشیات کی علت کبھی نہ لگی لیکن کچھ اور علتیں ضرور پریشان کرتی رہیں، اب کیا کچا چٹھہ کھولوں؟ یہ ایک لمبی جدوجہد ہے لیکن ایک بری عادت سے میں اب بھی نبرد آزما ہوں اور وہ ہے زیادہ کام کرنے کی عادت۔ ورکوہلزم۔  میں اس علت سے بھی نکل رہا ہوں۔ کیا آپ مانیں گے کہ 37 سال سے میں نے کوئی چھٹی نہیں کی اور نہ ہی میں بیمار ہو ا ہوں میں نے ہر روز کام کیا ہے۔ بلاناغہ۔ خوشی غمی بھی آئی پر کام کرتا رہا اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں، بلکہ ایک ایڈکشن کا شاخسانہ تھا جو میں نے اپنے والد سے سیکھی۔

زیادہ کھانے پینے کی عادت سے چھٹکارا پایا، وزن کم کیا، ابھی حال ہی کی بات بتاتا ہوں۔ میں روز 3 بجے اٹھ کر کیفے ٹیریا چلا جاتا اور پھر وہاں سموسہ، ٹماٹو ساس اور چائے چلتی۔ کچھ ہی ماہ میں وزن بڑھ گیا۔ بظاہر لگتا تھا کہ مجھے سموسوں کی ایڈکشن ہو گئی ہے لیکن کھوج لگانے سے پتا چلا کہ میں کام کرتے ہوئے فریش ہونے کیلئے چہل قدمی کرتا کرتا  کیفے ٹیریا چلا جاتا تھا اور پھر ماتحتوں سے گپ شپ کی اور بس واپسی۔میں نے اعلان کردیا کہ جس نے مجھ سے بات کرنی ہو، اس کو پھر میرے ساتھ واک بھی کرنی ہوگی۔ میں نے اسے خالی چہل قدمی اور ماتحتوں سے گپ شپ میں بدل دیا اور سموسے بیچ میں سے نکل گئے ۔تاہم کھانے کے ساتھ میری بیمار محبت کی کہانی بہت پرانی ہے۔ ڈاکٹر بننے کے فوراً بعد میں سعودیہ گیا تھا نوکری ڈھونڈنے کیلئے، قیام دوستوں کے ساتھ تھا۔ کسی کے پاس رہنا اور کسی کے ساتھ کھانا، ہر دم احساس رہتا کہ شاید اگلے وقت کھانا نہیں ملے گا اس لیے زیادہ کھا لیتا۔ یہ عقیدہ گھر کر گیا اور واپسی پرکئی سال بلا وجہ کھاتا رہا۔ پھر جب احساس ہوا تو عقیدہ بدلا۔ حالانکہ زیادہ کھائیں یا کم، جو کچھ بھی ہم کھاتے ہیں 4 گھنٹے میں وہ خرچ ہو جاتا ہے یا جسم میں سٹور ہو جاتا ہے۔ عادت کے پیچھے ایک عقیدہ بھی ہو سکتا ہے جو کہ اسے پیچھے سے دھکا دے رہا ہوتا ہے۔ یہ عقیدہ اس بنیادی عقیدے کے علاوہ ہے کہ اس ’’حرکت‘‘ سے مجھے فائدہ حاصل ہوگا یا مزہ یا پھر اچھا احساس یا تحفظ پیدا ہو گا، تاہم ’’عادت‘‘ کو کسی مناسب تگڑی یا قابل قبول عادت سے بدلا جا سکتا ہے۔ اسی طرح نا قابل قبول عادت کو کمزور اور نحیف و نزار کیا جا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے عادتیں مرتی نہیں، مد ہوش ہو سکتی ہیں۔ عادتیں بدلنے کا سنہری اصول یہ ہے کہ عادتیں آپ ایسے بدلتے ہیں جیسے آپ کپڑے بدلتے ہیں تاہم یاد رہے! آپ میلے کپڑے بدلنے کیلئے میلے کپڑے استعمال نہیں کرتے اجلے کپڑے کام میں لاتے ہیں اور عادتیں بدلنے کی راہ میں ایک رکاوٹ اعصابی دباؤ بھی ہے اس پر بھی براہ راست کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور عادتیں بدلنے کیلئے یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ آپ کس عادت کو بدل سکتے ہیں اور یہ عقیدہ منطق کی سطح پر نہیں بلکہ جذبات کی سطح پر حاوی ہونا چاہیے۔ کوچ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر کھلاڑی میں کامیابی کا عقیدہ نہیں اور جذباتی طور پرمستحکم نہیں ہے تو ساری پریکٹس اور محنت دھری کی دھری رہ جائے گی۔ اس قسم کے مضبوط عقیدے تنہائی میں نہیں بلکہ ایسے لوگوں کی محفل میں پیدا ہوتے ہیں جو کہ دوستانہ رویوں کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ہمارے ٹوٹتے ہوئے اعتماد کو سہارا دیتے ہیں۔ کسی کے گھورنے، ڈرانے اور بے عزت کرنے سے عادتیں بدلنے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ سہارے اور آسرے انسان کیلئے بہت مددگار ثابت ہوتے ہیں چاہے وہ خیال ہی کیوں نہ ہو۔ شگفتہ پہرے اور شائستہ رویے بھی بے پناہ مدد کرتے ہیں چاہے یہ مصنوعی ہی ہوں۔

ہم ایک ایسا معاشرہ ہیں جو کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر بری عادتوں کے گرداب میں ہے۔ لوگ منشیات، شراب اور کرپشن کی عادتوں میں مبتلا ہیں۔نوجوان لڑکوں میں بے راہ روی واضح نظر آ رہی ہے۔ خوشخبری یہ ہے کہ لوگوں کی عادتوں کو بدلنے کیلئے آسان طریقے موجود ہیں۔ اسی طرح پورے معاشرے کی علتوں کو بھی بدلا جاسکتا ہے مثلا لوگوں کی بجلی ضائع کرنے کی علت کو بدل کرلوڈشیڈنگ یکسر ختم  کی جا سکتی ہے۔

  • 1
  • 2
  • 3
  • اگلا صفحہ:
  • 4

Please write your comments here:-

Comments