:تعارف

:یہ آرٹیکل ڈاکٹر صداقت کی جس ویڈیو سے ماخوذ ہے اس کا عنوان درج ذیل ہے

نیند نہ آنے کی آخر کیا وجہ ہے؟

کیا نیند کی کمی نوجوانوں میں ذہںی بیماری کا سبب بن رہی ہے؟

https://www.facebook.com/WillingPakistan/videos/417355688985055/

جس میں ڈاکٹر صداقت علی نے آجکل کے دور میں خاص طور پر نوجوان نسل میں بڑھتے ہوئے نیند کے مسائل اور ان کی وجوہات نہایت شاندار انداز میں بیان کی ہیں. ان کا کہنا یہ ہے کہ

اکثر جن لوگوں کو نیند نہیں آتی تو وہ نیند نہ آنے کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوتے بلکہ وہ ان کی علت یعنی بری عادت ہوتی ہے جو کہ وہ لوگ بڑے شوق سے اپناتے ہیں. ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جن کا دراصل سونے کو دل نہیں کرتا اور وہ سمجھتے ہیں کہ سونا کوئی وقت کھونا یا کسی بیکار چیز کے مترادف ہے۔

کیونکہ جب سے روشنیاں آئی ہیں تو وہ شام کو بہت سے ایسے کام کرنے لگتے ہیں جو کہ پہلے نہیں کیا کرتے تھے. ابھی بھی لاہور کے قریب چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر گاؤں ہوں گے شام سات، آٹھ بجے سب سو چکے ہوتے ہیں۔

یہ صرف ایک لائف سٹائل کی بات ہے جس میں شہر میں چونکہ زیادہ روشنی ہوتی ہیں اور ڈسٹریکشن بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں اس کے برعکس گاؤن میں اس قسم کے مسئلے کم ہوتے ہیں اس لیے وہاں پر نیند کے یا سونے کے مسائل بھی کم پائے جاتے ہیں۔

خاص طور پر آج کل اسمارٹ فون کی علّت بہت عام ہیں جس کو استعمال کر کے انسان کو وہ مزہ آتا ہے جو کہ سونے کی اہمیت کو بھلا دیتا ہے۔

:روشنی کا نیند سے تعلق

صبح جلدی اٹھنے کے لیے اگر رات سونے سے پہلے کھڑکیوں کے پردے ہٹا دیے جائیں تاکہ صبح اْن میں سے آنے والی روشنی سے آپ کی آنکھ جلدی کْھل جائے. اور اسطرح روزانہ رات کو جلدی سونے کی عادت بنائی جائے تاکہ صبح جلدی اْٹھ سکیں. کیونکہ جلدی اْٹھنے کے لیے جلدی سونا ضروری ہے۔

نیند کی خرابی کی ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم نے اپنے بیڈروم کو لیوینگ روم بنا رکھا ہے. بیڈروم کو اگر صرف سونے سے منسلک رکھا جائے گا تو نیند میں خلل نہیں آئے گا، لیکن ہمارے ہاں اْسی بیڈ پر کھانا کھایا جاتا ہے، ٹی وی دیکھا جاتا ہے، اور اْسی پر سویا جاتا ہے. تو اسطرح ریسرچیز کے مطابق ہمارے بیڈ سے جب اس قسم کے کام جْڑے ہوں گے تو نیند میں خرابی کے امکانات بہت زیادہ ہوجائیں گے۔

:خوراک کا نیند سے تعلق

ریسرچیز کے مطابق سستے کھانے نیند لانے میں اور مہنگے کھانے نیند بھگانے میں مدد کرتے ہیں۔

اور جو کافی ہم آجکل فیشن سمجھ کر پیتے ہیں اور خاص طور پر رات کو پیتے ہیں تو وہ ہماری نیند کو بہت معصومیت سے غائب کر دیتی ہے. کیونکہ اْس میں موجود ایک کیمیکل کیفین’ جو کہ نیند بھگانے والا کیمکل ہے وہ ہمارے دماغ کے قدرتی کیمکل ‘ایڈینوسین’ جسکا کام نیند لانا ہے، سے ہمشکل ہے. اور اسکی جگہ لے کر ہمارے دماغ کو غلط پیغام دیتا ہے جس سے کہ ہم بیدار ہوجاتے ہیں۔

نیند خراب ہو تو ہم صحیح فیصلہ کرنے کی قوت بھی کھو دیتے ہیں. ناروے کی ملٹری نے اپنے کیڈٹس پر ایک تجربہ، جو کہ وہ ڈمیز پر نشانے باندھ کر کیا کرتے تھے، نیند کی حالت میں کیا اور عین وقت پر ڈمیز کی جگہ چلتے پھرتے انسانوں کو رکھ دیا، اور اسلحے میں سے گولیاں نکال لیں، اور انہوں نے دیکھا کہ نیند کی کمی کی وجہ سے ان کیڈٹس نے چلتے پھرتے انسانوں کو ڈمیز سمجھ کر ان پر گولیاں چلانے کی کوشش کی. اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ نیند کی کمی کی وجہ سے ان کی فیصلہ کرنے کی قوت کس قدر متاثر ہوچکی تھی۔

لحاظہ نیند کو وقت کا ضیاع نا سمجھیں، کیونکہ ہماری ذہانت، قابلیت، بہتر موڈ مزاج اور بہت سے کاموں کا تعلق بہت حد تک نیند سے جْڑا ہوتا ہے. بہت سے سائنسدان نیند میں نئی ایجادات کے طریقے دیکھتے ہیں، بہت سے شعرا نیند میں اپنے نئے اشعار لکھتے ہیں اور پھر ان کو یاد کرتے ہیں. نیند ہماری ایک عادت ہے اور عادت کا مطلب ہے روزانہ کرنے والا کام ہے. اس کو علت نہ بنائیں اور بیمقصد نا جانیں۔

(تحریر : حفصہ شاہد کلینکل سائیکالوجسٹ)
خیالات : ڈاکٹر صداقت علی

Please write your comments here:-

Comments